Popular posts from this blog
گفتگو۔۔۔۔۔۔۔ سر راہ
گفتگو۔۔۔۔۔۔۔ سر راہ گزرے دو دن سے یہ میرا مشغلہ ہوگیا تھا کہ میں مختلف چیزوں سے بات کرنے کی کوشیش کرتا اور آگے سے اس کا اپنے طور سے آتے جواب کا نتیجہ اخذ کرنے کی کوشیش کرتا مثال کے طور پر بہت پیچھے جنگل میں بہت سارے گھوڑے تھے قریب سے گزرتے ہوئے ان میں سے ایک کی طرف منہہ کرکے پوچھا تم نے گھاس کھائی آج جواب میں اس نے مکمل گردن موڑ کر کر میری طرف دیکھا میں کیا سمجھا اس نے کیا سمجھانے کی کوشیش کی نہیں جانتا اسی طرح راستے میں ایک بڑی آبشار جلوہ گر تھی میں نے پورے یقین سے اس سے پوچھا کہ تم کب تک بہتی رہو گی اسی وقت عین اسی وقت جیسے ہی میری بات ختم ہو...
تانگیر وادی
تانگیر وادی ..کے کے ایچ پر داسو سے چلاس کی جانب 57 کلو میٹر اور چلاس سے داسو کی طرف 64 کلو میٹر کے فاصلے پر سندھ دریا پر تانگیر برج آتا ہے .اس برج کو کراس کرنے کے بعد اندر کی طرف جائیں تو تو تانگیر وادی شروع ھو جاتی ہے ..یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو تحصیل ہیڈ کواٹر کا درجہ رکھتا ہے اور تانگیر برج سے اس کا فاصلہ 17کلو میٹر ہے یہ ایک خوبصورت جگہ ہے یہاں کا موسم بہت اچھا ہوتا ہے .ادھر کوئی ہوٹل نہیں ہے صرف ایک ریسٹ ہاؤس ہے .یہاں کے لوگ بہت پر امن اور مہمان نواز ہیں باہر سے کوئی بھی مہمان خوا وہ کوئی اجنبی ہی کیوں نہ ھو اس کو اپنا مہمان بناتے ہیں عام طور پر ٹورسٹ اس علاقہ میں نہیں اتے کیوں کہ زیادہ تر ٹورسٹ چلاس سے آگے کے علاقے کو ہی گلگت بلتستان اور پر فضا مقام سمجتھے ہیں حالانکہ ادھر آنا زیادہ آسان ہے Tangeer Valley ....
Comments
Post a Comment